دعوتِ اسلام


Гео и язык канала: не указан, не указан
Категория: не указана


دینِ اسلام کی دعوت کا کام سرانجام دینے والا منفرد چینل "دعوت اسلام" جہاں آپ کو دین اسلام کے ہر موضوع پر بادلیل اور باحوالہ جامع اور مفصل تحاریر پڑھنے کو ملیں گی
ان شاء اللہ

Связанные каналы  |  Похожие каналы

Гео и язык канала
не указан, не указан
Категория
не указана
Статистика
Фильтр публикаций


❤️ دل کی دوائیں

حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ صوفیہ کرام میں بڑے اونچے مرتبے کے بزرگ ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ دل کی دوائیں پانچ ہیں۔

(۱) قرآن کریم کو تدبّر کے ساتھ پڑھنا
(۲) خالی پیٹ رہنا
(۳) رات کو تہجد پڑھنا
(۴) سحری کے وقت اللہ کے حضور گڑگڑانا اور
(۵) صالحین کی صحبت اختیار کرنا۔

(تحبیب المسلمین بکلام رب العالمین۔ کمال الدین الادہمیؒ ، ص۱۴۔ مطبہ محمودیہ مصر ۱۳۵۸ ھ)


بے نمازیوں کا حشر

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے نماز کی پابندی نہیں کی اس کے لیے نماز نہ نور ہوگی نہ نجات کا سامان ہوگی اور قیامت کے روز اس کا حشر فرعون،قارون ،ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔

(مسند احمد،مسند عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:۶۲۸۸)

یا اللہ ہماری حفاظت فرما اور ہمیں نماز کی حفاظت کرنے والا بنا
آمین یا رب


Репост из: سیفُ البتار آفیشیل
ابے نکلو ہمارے ملک سے اے حرام خور کافر

ایک اونٹ امریکی فوجی کو لات مارتے ہوئے اپنی بیداری کا ثبوت دے رہا ہے 🤓😳

لیکن کچھ ضمیر فروش انسان غلام ہونے کے باوجود خود کو آزاد سمجھتے ہیں اور اپنے اوپر اپنے آقا کو سوار کئے ہوتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں


اے عمر رضی اللہ عنہ! تجھ سے شیطان ڈرتا ہے

نبی کریمﷺ ایک غزوہ (لڑائی) میں تشریف لے گئے تھے، جب فاتح و منصور ہو کر واپس لوٹے تو ایک سیاہ فام بچی حاضرِ خدمت ہوئی اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو سلامت واپس کیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گیت گاؤں گی ۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا:اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لو ورنہ نہیں۔ اس بچی نے دف پکڑی اور بجانے لگی، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو وہ برابر بجاتی رہی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس بچی نے اپنی وہ دف زمین پر پھینکی اور خوف و ڈر کے مارے بیٹھ گئی، اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اے عمر رضی اللہ عنہ ! شیطان تجھ سے خوف کرتا ہے

(الترمذي في "السنن" (۶۲۰/۵))
(احمد في "المسند“ (۳۵۳/۵))
(البيهقي في "السنن" (۷۷/۱۰))


خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ایک خط

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک گورنر کو خط لکھا :

امابعد فقد امكنتک القدرة من ظلم العباد، فإذاهممت بظلم احد فاذكر قدرةالله عليك واعلم انك لا تأتى الى الناس شيأ الاكان زأبلا عنهم باقيا عليك واعلم ان الله تعالى اخذ للمظلومين من الظالمين.والسلام۔

"حمد و صلوٰۃ کے بعد۔تمہیں بندوں پر ظلم کرنے کی قدرت حاصل ہو گئی ہے،لیکن جب بھی کسی شخص پر ظلم کرنے کا ارادہ کرو تو یہ سوچ لیا کرو کہ اللہ تعالیٰ کو تم پر کتنی قدرت حاصل ہے! اور یاد رکھو کہ تم عام لوگوں پر جو آفت بھی مسلط کرو گے وہ ان سے توایک نہ ایک دن ٹل جائے گی لیکن تمہارے اعمال نامے میں ہمیشہ باقی رہے گی۔اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے مظلوموں کا حق لے کر رہے گا۔والسلام۔
(احیاء العلوم للغزالی،بحث توبہ،ص۵۰ج۴)

یہ خط آپ رحمہ اللہ نے ایک گورنر کے نام لکھا تھا لیکن اس میں چپھا سبق اور ہدایات اور نصیحت ہم سب مسلمانوں کے لئے ہیں ، کاش کہ ہم سبق حاصل کرنے والے اور ہدایت کو تھامنے والے بن جائیں


✨ جمعہ کے دن کی سنتیں

🔘 غسل کرنا
بخاری،الدھن الجمعۃ، حدیث نمبر:۸۳۴۔

🔘 مسواک کرنا
ابن ماجہ،ماجاء فی الزینۃ یوم الجمعۃ، حدیث نمبر:۱۰۸۸۔

🔘 صاف کپڑے پہننا
سنن ابوداؤد،فی الغسل یوم الجمعۃ، حدیث نمبر:۲۹۰۔

🔘 ناخن کاٹنا
شعب الایمان،باب یقلم اظفارہ،یقص شاربہ یوم، حدیث نمبر:۲۶۴۵۔

🔘 تیل لگانا (خوشبو بھی لگاسکتے ہیں اور اسکی دلیل اسی حدیث میں موجود ہے)
بخاری،الدھن للجمعۃ، حدیث نمبر:۸۳۴

🔘 سورہ کہف
السنن الكبري للبيهقي باب فضل الجمعة، حدیث نمبر:۶۰۸جلدنمبر:۱/۲۰۵

🔘 زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنا
ابوداود، بَاب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، حدیث نمبر:۸۸۳۔


بسم اللہ الرحمٰں الرحیم


👆👆

یہ دونوں تصاویر چین کے شہر کورلا میں واقع مسجد کی ہیں
چینی کمیونسٹ حکومت نے مسجد کے میناروں کو شہید جبکہ آیات قرآنی کو دیواروں اور دروازوں سے مٹادیا
تصویر 2 کیمطابق
صدر دروازے پر 1 اشتہار لگایا ہے جسکا مطلب ہے "کمیونیسٹ پارٹی کی عظمت اور چین کا جھنڈا بلند ہو"

پھر بھی "پاک چین دوستی زندہ باد ؟"

لعنت ہے کفار سے دوستیاں کرنے والوں پر




افسوسناک تفصیل نیچھے دوسری پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں


Репост из: سیفُ البتار آفیشیل
#اسرائیلی فوجیوں نے ایک 16 سالہ فلسطینی طالبہ کو شہید کردیا

یروشلم میں یہ افسوسناک واقعہ تب پیش آیا جب یہ بچی اپنے بیگ سمیت جارہی تھی، اسرائیلی افواج نے اس خوف سے کہ ہم پر حملہ نے کردے اس کو شہید کردیا، بعد میں دیکھا گیا تو ان کے پاس صرف سکول کی کتابیں تھیں اور کچھ نہیں

اللہ ہماری مظلوم بہنوں کا انتقام خود لے ، کیوںکہ مسلمانوں نے غیرت کی چادر اتار دی ہے اور بے حسی کی چادر اوڑھ ڈالی ہے


حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

جب کچھ لوگ ایسے لوگوں کے سامنے گناہ کے کام کریں جو ان سے زیادہ طاقتور اور بااثر ہوں اور وہ انہیں ان برے کاموں سے نہ روکیں تو ان سب پر اللہ تعالی ایسا عذاب نازل فرمائیں گے جسے ان سے نہیں ہٹائیں گے۔

(حیاۃ الصحابۃ:۲/۸۱۰،۸۱۱)


اشعب لالچی (چھوٹی چھوٹی لالچی کہانیاں 😘)

اہل عرب میں اشعب نامی ایک صاحب(متوفی ۱۵۴ھ) لالچی ہونے میں بہت مشہور تھے، یہاں تک کہ انکا لقب ‌‌"طامع‌‌" (لالچی) مشہور ہوگیا اور وہ حرص و طمع کے معاملہ میں ضرب المثل بن گئے ہیں، جب کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ وہ بہت لالچی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ تو اپنے وقت کا اشعب ہے، یا یہ تو اشعب سے بھی بڑھ گیا، عربی زبان کے یہ جملہ بہت سنے تھے، آج خطیب کی تاریخ بغداد میں انکے کچھ واقعات نظر پڑ گئے ‌‌"ضیافت طبع‌‌" کے لئے حاضر ہیں،

💠 اصمعی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ بچے اشعب کے پیچھے لگ گئے اور اسے طرح طرح سے ستانے لگے اشعب عاجز آ گیا تو اس نے بچوں سے کہا:
" ارے جاؤ سالم بن عبداللہ کھجوریں بانٹ رہے ہیں‌‌"
بچے یہ سن کر حضرت سالم کے گھر کی طرف دوڑ پڑے، اشعب نے یہ دیکھا تو خود بھی بچوں کے پیچھے دوڑنا شروع کردیا کہ کیا خبر یہ بات سچ ہی ہو اور سالم واقعی کھجوریں بانٹ رہے ہوں،

💠 ضحاک کہتے ہیں کہ اشعب طماع کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو(فروخت کرنے کے لئے) تھال بنا رہے تھے اشعب نے ان سے کہا: ‌‌"ذرا بڑے بڑے بناؤ ‌"
‌‌" وہ کیوں‌‌" انہوں نے پوچھا
‌‌" ‌‌ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کبھی انہی تھالوں میں سے میرے واسطے کوئی تحفہ ہدیہ لے کر آئے"

💠 اشعب خود کہتے ہیں کہ‌‌"جب بھی میں کسی جنازہ میں شریک ہوا اور وہاں دو آدمیوں کو سرگوشی کرتے دیکھا تو ہمیشہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ شاید مرنے والا میرے لئے کوئی وصیت کرکے گیا ہے اور اسی کے سلسلہ میں بات کر رہے ہیں.‌‌"

(تاریخ بغداد للخطیب ص ۴۲، ۴۳ج ۷۱)


بسم اللہ الرحمٰں الرحیم


ایک مسلمان بمقابلہ مرزائی کافر ۔۔۔۔!!

آج سے برسوں پہلے کنری سندھ میں ایک مسلمان لوہار کی دکان پر ایک مرزائی آگیا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مدح و توصیف شروع کردی اور کہا کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں کا سردار تھا۔ مسلمان لوہار دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کرتا رہا۔ جب مرزائی مبلغ کی تبلیغ کرتے کرتے منہ میں جھاگ تیرنے لگی تو مسلمان نے کلہاڑی لہرا کر مرزا قادیانی کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور مرزائی سے مطالبہ کیا کہ جو گالیاں مرزا قادیانی کو میں نے دی ہیں، تم بھی دہراتے چلو تاکہ سبق یاد ہوجائے۔

مرزائی ڈر کے مارے گفتنی و ناگفتنی ان گالیوں کی گردان مرزا قادیانی کو سنانے میں مسلمان لوہار سے بھی چند قدم آگے۔

اب مسلمان نے وہ تیز دھار کلہاڑی مرزائی کے ہاتھ میں تھمادی اور گردن جھکا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ مجھ سے یہ مطالبہ کریں کہ میں (نعوذ باللہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کروں

یہ کہہ کر مسلمان لوہار رَو پڑا کہ میں مرجاﺅں گا، ٹکڑے ٹکڑے ہونا قبول کرلوں گا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔


دلیل صداقت


یہ کہہ کر مسلمان لوہار اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مرزائی مبلغ صاحب ! آپ کے اور ہمارے سچے جھوٹے ہونے کی یہی دلیل ہے۔ سچے ہی کی توہین ناقابل برداشت، جھوٹے کی جتنی توہین کیے جاﺅ، اس جھوٹے کے ماننے والوں پر اس کا اثر نہ ہوگا۔“


🌟 تعارفِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین قسط 24 🌟

🌹 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 🌹

✨ خدمت گزاری خلق

خلق اللہ کی نفع رسانی اورخدمت گزاری میں ان کو خاص لطف حاصل ہوتا تھا، اکثر محلہ والوں کا کام کردیتے تھے، بیماروں کی تیمارداری فرماتے اور اپنے ہاتھ سے ضعیف وناتوان اشخاص کی خدمت انجام دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، اطراف مدینہ میں ایک ضعیف نابینا عورت تھی،حضرت عمرفاروق ؓ روز علی الصبح اس کے جھونپڑے میں جاکر ضروری خدمات انجام دیتے تھے، کچھ دنوں بعدانہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص ان سے بھی پہلے اس کارثواب سے بہرہ یاب ہوجاتا ہے،ایک روز بہ نظر تفتیش کچھ رات رہتے ہوئے آئے تو دیکھا خلیفہ اول یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس ضعیفہ کی خدمت گذاری سے فارغ ہوکر جھونپڑے سے باہر نکل رہے ہیں،بولے :انت العمری یاخلیفۃ رسول اللہ! قسم ہے کیا روز آپ ہی سبقت کرجاتے ہیں؟
(کنز العمال جلد ۶: ۳۱۲)

✨ مذہبی زندگی

حضرت ابوبکر ؓ رات رات بھر نمازیں پڑھتے تھے، دن کو اکثر روزے رکھتے ،خصوصاً موسم گرما روزوں ہی میں بسرہوتا،خضوع وخشوع کا یہ عالم تھا کہ نماز میں لکڑی کی طرح بے حس وحرکت نظر آتے،رقت اس قدر طاری ہوتی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی تھی،خوف محشر اورعبرت پذیری سے دنیاکا ذرہ ذرہ ان کے لئے سرمایۂ عبرت تھا،کوئی سرسبز درخت دیکھتے تو کہتے کاش! میں درخت ہی ہوتا کہ عاقبت کے جھگڑوں سے چھوٹ جاتا،کسی باغ کی طرف گزرتے اورچڑیوں کو چہچہاتے دیکھتے تو آہِ سرد کھینچ کرفرماتے پرندو!تمہیں مبارک ہو کہ دنیا میں چرتے چگتے ہو درخت کے سایہ میں بیٹھتے ہو اور قیامت کے روز تمہارا کوئی حساب کتاب نہیں،کاش ابوبکر بھی تمہاری طرح ہوتا۔
(کنز العمال،ج ۶ : ۳۱۲)

قرآن شریف کی تلاوت فرماتے تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اوراس قدر پھوٹ پھوٹ کر روتے کہ آس پاس کے تمام لوگ جمع ہوجاتے نرم دلی اوررقت قلب کے باعث بات بات پر آہ سرد کھینچتے تھے،یہاں تک کہ "اواہ منیب "ان کا نام ہوگیا تھا۔

نیکو کاری وحصول ثواب کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا،آج تم میں سے روزہ سے کون ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں ہوں، پھر فرمایا"آج کسی نے جنازہ کی مشایعت کی ہے؟"کسی نے مسکین کوکھانا دیا ہے؟ اورکسی نے مریض کی عیادت کی ہے؟ ان سوالوں کے جواب میں جو زبان گویا ہوئی وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تھی،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"جس نے ایک دن میں اس قدرنیکیاں جمع کی ہوں وہ یقینا جنت میں جائے گا۔
(مسلم فضائل ابی بکر ؓ)

اگلی قسط ان شاء اللہ آئندہ بدھ کے روز نشر کی جائے گی

👈 آنے والی قسطوں میں آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتی حالاتِ زندگی پر لکھیں گے کہ کیسے وقت گزارا کرتے ، کماتے کیسے ، مہمان نوازی ، لباس و غذا وغیرہ
ان شاء اللہ


جب تک یہ جمہوری کُفری نظام دنیا میں رائج ہوگا اُس وقت تک مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا رہے گا اور جب تک یہ گمراہی والا نظام رائج ہوگا ملکوں میں اُس وقت تک کبھی پاکستان میں بیٹی زینب کے ساتھ زیادتی ہوگی تو انڈیا میں بیٹی آصفی کے ساتھ زیادتی ہوگی

کیوںکہ جمہوریت وہ نظام ہے جس نے ہر نفس و خواہش پرست کو آزادی دے رکھی ہے اور یہ ایسا نظام ہے جس نے ہمیشہ ظالم کا ساتھ دیا اور گمراہ لوگوں کو طاقت دی ہے

بس! جب تک اسلامی نظامِ شریعت نافذ نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک ہمیں ان وحشیانہ واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا اور جب تک اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی اُس وقت تک ظالم اور گمراہوں کو لگام نہیں دی جاسکتی

اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ایک ہی نعرہ ہے

#شریعت یا #شہادت


مسجدِ نبوی ﷺ

💝💝💝


👈👈 فتنوں کا بیان

✨ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ایسا زمانہ آئے گا ایک مسلمان کا اچھا مال بکریوں کا گلہ ہو جن کو لے کر وہ پہاڑیوں کی چوٹیوں اور بارش والی وادیوں کی تلاش کرے اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگ جائے۔ (صحیح بخاری)

🔅 تشریح ..... قرآن پاک میں قیامت کو قریب ہی بتلایا گیا ہے (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ) رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی قیامت اور اس سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنوں کا اس طرح ذکر فرماتے تھے جیسے کہ یہ سب کچھ عنقریب ہی ہونے والا ہے۔ اولا تو اس لئے کہ جو چیز آنے والی ہے اور اس کا آنا یقینی ہے اس کو قریب ہی سمجھنا چاہیے۔ دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ کوئی شخص اس کو بہت دور سمجھ کر مطمئن نہ ہو بیٹھے اور اس کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے اس میں سستی نہ کرے۔ اسی اصول و معمول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فتنہ کے ایسے زمانے کے قریب ہونے کی آگاہی کی ہے جب بھری پڑی آبادیوں کا حال ایسا خراب ہو جائے گا کہ وہاں رہنے والے کے لئے دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا قریبا ناممکن ہو جائے گا آپ نے فرمایا ایسے وقت میں وہ بندہ مومن بڑی خیریت میں ہوگا جس کے پاس چند بکریوں کا گلہ ہو وہ ان کو لے کر پہاڑیوں کی چوٹیوں پر یا ایسی وادیوں میں چلا جائے جہاں بارشیں ہوتی ہوں بکریاں اللہ کے اگائے ہوئے سبزے سے اپنا پیٹ بھرے اور یہ بندہ ان بکریوں سے گزارا کرے اور اس طرح آبادیوں کے فتنوں سے محفوظ رہے۔


بسم اللہ الرحمٰں الرحیم

Показано 20 последних публикаций.

1 343

подписчиков
Статистика канала