آج عمر بے تحاشا یاد آۓ
ملک پاک کے شہروں میں آۓ دن
توہین رسالت،توہین اصحاب، کہ واقعات دیکھ کر بے تحاشا عمر یاد آۓ
عمر چاہے جس زمانے میں بھی آیا
اسلام کی شان و شوکت ساتھ لایا
اسلام کا رعب،دبدبہ نام عمر سے ہر زمانے میں قائم رہا
ملک پاک کی حالت عجیب مخمصہ میں مبتلاء کر رہی ہے
دل کی بے چینی میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے
وہ نوجوانان امت جن کو تلواروں کے ساۓ میں پلنا تھا
آج موبائل اور میڈیا کے ساۓ تلے پل کر غیرت و حمیت کو بھول چکے ہے
وہ نوجواناں امت محمدیہ
جن کو گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں تا دیر سرشار رکھتی تھی
آج وہی نوجواناں امت
مسجدوں میں فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں
مسجد وہ مقام جس کے بارے میں کہا گیا ہے سب سے بہترین جگہ مسجد ہے
وہی امت محمدیہ جو کچھ عرصہ پہلے جہادی تربیتوں میں مصروف نظر آتے
آج وہی نوجوانان امت
ٹک ٹاک بناتے ہوۓ میوزک کے تھاپ پو یوں تھرکتے ہیں
جیسے ان کو کرنٹ لگ رہے ہو
آزادی مارچ کے نام پر ان جیسے مردوں کا بے حیا عورتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا
نعرے لگانا اور لگوانا
ان کو نظریہ کو آگے بڑھانا
اے کاش کے عمر آپ ہوتے
تو سر عام ان کو کوڑے لگاتے
ہم دیکھتے تو سہی اس کے بعد کس کے اندر یہ جرأت ہوتی ہے
اے کاش کے خلافت کی چند بہاریں ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکتے
اے کاش۔۔اے کاش۔۔۔اے کاش
ﭼﺮﺍﻍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ' ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﻓﺼﻞِ ﺑﮩﺎﺭﺍﮞ'ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ گے
ﺟﻮﺍﻧﻮ' ﺍﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺪﯾﺮِ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ
تمہی ﮨﻮﮔﮯ ﻓﺮﻭﻍِ ﺑﺰﻡِ ﺍﻣﮑﺎﮞ' ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ...
ع۔خان
ملک پاک کے شہروں میں آۓ دن
توہین رسالت،توہین اصحاب، کہ واقعات دیکھ کر بے تحاشا عمر یاد آۓ
عمر چاہے جس زمانے میں بھی آیا
اسلام کی شان و شوکت ساتھ لایا
اسلام کا رعب،دبدبہ نام عمر سے ہر زمانے میں قائم رہا
ملک پاک کی حالت عجیب مخمصہ میں مبتلاء کر رہی ہے
دل کی بے چینی میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے
وہ نوجوانان امت جن کو تلواروں کے ساۓ میں پلنا تھا
آج موبائل اور میڈیا کے ساۓ تلے پل کر غیرت و حمیت کو بھول چکے ہے
وہ نوجواناں امت محمدیہ
جن کو گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں تا دیر سرشار رکھتی تھی
آج وہی نوجواناں امت
مسجدوں میں فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں
مسجد وہ مقام جس کے بارے میں کہا گیا ہے سب سے بہترین جگہ مسجد ہے
وہی امت محمدیہ جو کچھ عرصہ پہلے جہادی تربیتوں میں مصروف نظر آتے
آج وہی نوجوانان امت
ٹک ٹاک بناتے ہوۓ میوزک کے تھاپ پو یوں تھرکتے ہیں
جیسے ان کو کرنٹ لگ رہے ہو
آزادی مارچ کے نام پر ان جیسے مردوں کا بے حیا عورتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا
نعرے لگانا اور لگوانا
ان کو نظریہ کو آگے بڑھانا
اے کاش کے عمر آپ ہوتے
تو سر عام ان کو کوڑے لگاتے
ہم دیکھتے تو سہی اس کے بعد کس کے اندر یہ جرأت ہوتی ہے
اے کاش کے خلافت کی چند بہاریں ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکتے
اے کاش۔۔اے کاش۔۔۔اے کاش
ﭼﺮﺍﻍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ' ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﻓﺼﻞِ ﺑﮩﺎﺭﺍﮞ'ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ گے
ﺟﻮﺍﻧﻮ' ﺍﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺪﯾﺮِ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ
تمہی ﮨﻮﮔﮯ ﻓﺮﻭﻍِ ﺑﺰﻡِ ﺍﻣﮑﺎﮞ' ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ...
ع۔خان