تیز خبر


Гео и язык канала: не указан, не указан
Категория: не указана


اسلام میرا دین ہے

Связанные каналы

Гео и язык канала
не указан, не указан
Категория
не указана
Статистика
Фильтр публикаций


بریکینگ نیوز
طالبان نے غزنی میں کٹپتلی سیکیورٹی کی گاڑی کو رسکٹ لانچر سے نشانہ بنایا جس میں 5 سیکیورٹی اہلکار مردار ہوئے
بعد میں گاڑی میں آگ لگنے کی وجہ سے انکے اجساد جلس گئے


وہ جو پوچھتے ہیں کہ طالبان کو یہ اسلحہ و گاڑیاں کون دیتا ہے

انکو بتادینا کہ ہم ذبردستی انکی بے غیرت افواج سے چھین کر حاصل کرتے ہیں یہ اسلحہ و گاڑیاں


پاکستانی ادارے اور میڈیا بھی عجیب ہیں، ایٹم بم بنا کر بھی انڈیا کو طالبان سے ڈرانے کی کوششیں کررہے ہیں 😂

تھوڑا سا، بس تھوڑا سا ایمان درکار تھا انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی لیکن وہ ہے نہیں ان بے دینوں میں تب ہی تو اب انڈیا کو نئے انداز میں ڈرا رہے ہیں

یہاں تک کہ لال ٹوپی ڈرامے والے خبیث زید زمان حامد نے بھی اپنے آفیشیل ٹویٹر ایکاؤنٹ پر یہ جھوٹی خبر چلائی کہ طالبان نے عید کے بعد انڈیا پر حملے کی دھمکی دی ہے

اب یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات فوج اور آئی ایس آئی کو لمبر ون ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور بندے ان سے ڈیٹول کے بارے سوال پوچھے یہ کہیں گے کہ پاک آرمی زندہ باد آئی ایس آئی پائندہ باد

تو جب اتنی لمبر 1 ہے یہ فوج و ایجینسی تو کیوں نہ براہ راست انڈیا کو ڈراؤ دھمکاؤ بجائے اسکے کہ طالبان کا نام لے رہے ہو؟

بات یہ ہے کہ تمہارے پاس فوج و آئی ایس آئی کی تعریفوں کے پُل باندھنے کے لئے میڈیا موجود ہے جس کا تم بے دریغ استعمال کرتے ہو باقی نہ تمہاری فوج میں نہ انٹیلیجینس اداروں میں ایمان،غیرت،بہادری اور جراءت نام کی کوئی چیز نہیں


طالبان کے مختلف علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں دشمن کا ایک مراکز فتح، 43 اہلکار ہلاک، 12 گرفتار


قندوز و پکتیکا، چوکی پر قبضہ، کمانڈر سمیت 11 ہلاک، بھاری غنائم


صوبہ کندوز اور غور میں طالبان نے 18 سیکیورٹی اہلکار زندہ گرفتار کئے ہیں


اس سے بڑھ کر اور مزاق کیا ہوسکتا ہے کہ داعشی آج بھی توحید و اسلام کی باتیں کرتے ہیں 😁

مطلب یار داعش اور اسلام ؟


عالیشان ❤️


کابل انتظامیہ کی فوجی کانووئے جو کہ آج صبح صوبہ بادغیش میں طالبان کے خلاف کاروائی کرنے آئے تھے لیکن راستے میں ہی طالبان نے ان کو خوش آمدید کرتے ہوئے حملہ شروع کردیا اور بزدل دشمن بھاگتے ہوئے بہادری کے ریکارڈ قائم کرگیا


👆👆

شام میں ہمارے مجاہدین بھائیوں کی تنظیم "تحریر الشام" کے امیر "شیخ ابو محمد الجولانی حفظہ اللہ" کا دیدار

اللہ رب العزت آپ کی اور تمام جہادی قائدین،شیوخ اور مجاہدین کی حفاظت فرمائے
نیز اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے






شام میں ہمارے تحریر الشام کے مجاہدین کی گاڑی

اللہ حفاظت فرمائے


ہمارا اسلامی جھنڈا افغانستان میں لہرا رہا ہے الحمد للہ


ہرات وسرپل وروزگان: دعوتی سلسلہ، 13 اہلکار سرنڈر

امارت اسلامیہ کے دعوت وارشاد کمیشن کے کارکنوں کی دعوت کو لبیک کہتے ہوئے ہرات، فاریاب، غور، روزگان وسرپل صوبوں میں دشمن سیکیورٹی اہلکار طالبان کو تسلیم


دعوت و حملے،9 اہلکار ہلاک، 9 سرنڈر، ٹینک اسلحہ غنیمت


فراہ: آپریشن، ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر فتح، ہلاکتیں

صوبہ فراہ ضلع پشتکوہ کے پولیس ہیڈکوارٹر پر حکمت عملی کے تحت بم دھماکہ ہوا۔

تفصیل کے مطابق جمعہ کے رات پولیس ہیڈکوارٹر پر بارودی سرنگ کے ذریعے حکمت عملی کے تحت دھماکہ کیا، جس سے مرکز منھدم ہوا، درین اثنا مجاہدین نے دشمن کے مراکز پر حملہ بھی کیا، جس سے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر فتح اور متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوئے۔


امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زندگی سے متعلق حصہ 5

ملا محمدعمر مجاہد کی قائدانہ شخصیت:

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ ایک قائدانہ شخصیت کے مالک اور اپنی ایک خاص طبعیت اور سلیقہ رکھتے تھے ۔ انہیں دنیا بھر کے دیگر حکام اور بلند مرتبت شخصیات کے برعکس خود نمائی اور دکھلاوے سے شدید نفرت تھی ۔ بے ضرورت گفتگو نہیں فرماتےتھے ۔ مگر ضرورت کے وقت ان کی باتیں انتہائی پختہ ، سوچی سمجھی اور معقول ہوتی تھیں ۔ مثال کے طورپر افغانستان پر امریکی جارحیت کےآغاز کے موقع پر امارت اسلامیہ کے خاتمےاور پروپیگنڈے کے ذریعے مجاہدین کا حوصلہ کمزور کرنےکے لیے امریکا کی کوششیں انتہائی تیزی سے جاری تھیں ۔ پوری مغربی دنیا کی ذرائع ابلاغ اور ریڈیو اور ٹی وی چینلزاسی کام کے لیے وقف کردیے گئے تھے ۔

ملا محمدعمر مجاہدامت مسلمہ کے درد سے درد مند رہنماتھے۔ مسلمان بھائیوں کے ساتھ اخوت ، ہمدردی ، ایثاراور تعاون صرف ان کا نعرہ نہیں تھا بلکہ اس دعوی کو انہوں نے ہمیشہ عملا ثابت کیا ۔

عقیدہ اور فکری نمو:

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ عقیدے کے اعتبار سے مسلمانوں کے اہل سنۃ والجماعۃ کے منہج کے راہ رو حنفی مسلک کےمقلد تھے۔

خرافات اور بدعات کے سخت مخالف تھے ۔ مسلمانوں کے درمیان مذہبی ، فکری اور تنظیمی اختلافات انہیں بالکل پسند نہیں تھے ۔ اپنےمجاہدین اور اور تمام مسلمانوں کو آپس میں اسلامی اتحاد اور فکری ہم آہنگی کی بنیادیں مضبوط کرنے کی نصیحت اور تاکید کرتے تھے ۔ مسلمانوں کے درمیان عقیدے کا اتحاد اور یگانگت وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتےتھے ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین کے نقش قدم پر چلنےکو امت مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ قرار دیتے تھے ۔

ذاتی زندگی :

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زندگی کا اکثر حصہ دینی علوم کے حصول ، مطالعہ ، جہاد ، دعوت اور اسلام کی خدمت میں گذارا ۔ افغانستان کے معاصر حکام میں سے شاید سب سے زیادہ غریب اور بیت المال کا مال استعمال نہ کرنے والے شخص تھے ۔ کیوں کہ نہ گذشتہ جہاد کے دور میں انہوں نے اپنے جہادی اثرورسوخ کوبرروئے کار لاکراپنی ذاتی زندگی کے لیے کچھ حاصل کیا اور نہ افغانستان پرامارت اسلامیہ کے 7 سالہ دور حکومت میں ایسا کوئی اقدام کیا ۔

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے پاس ملکیتی کوئی مکان نہیں تھا اور نہ ہی بیرون ممالک کی بینکوں میں ان کی کوئی نقد رقم رکھی ہوئی تھی ۔

1999 میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان پرظالمانہ یک طرفہ اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اوربیرون ممالک کے بینکوں میں طالبان قائدین کے مالی حساب کتاب کی جانچ پڑتال کا حکم دیاگیا ۔ ملا محمد عمرمجاہد امارت اسلامیہ کے امیر کے طور پر امارت اسلامیہ کے سب سے بڑے رہنما تھے ، ان کے ذاتی یا فرضی کسی نام سے افغانستان کے باہر یا اندر کسی بینک میں کوئی اکاونٹ موجود نہیں تھا۔

امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں ان کا رہائشی مکان دشمنوں کی جانب سے خطرناک حملوں کا نشانہ بنا ۔ جس سے ان کے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر لوگ بھی شہید ہوئے ۔اس لیے امارت اسلامیہ کے کچھ رہنماوں نے ان کی حفاظت کی خاطر قندہار شہر کے شمال مغرب میں "باباصاحب کوتل” کے زیریں علاقے میں جہاں قریب قریب میں کوئی عام آبادی نہیں تھی ان کے لیے ایک رہائشی مکان اور امار ت اسلامیہ کے مرکزی امیر کا دفتر تعمیر کروایا ۔ جوتصرف کے اعتبار سے بیت المال کے عمومی املاک میں سے سمجھاجاتا تھا نہ کہ ان کی ذاتی ملکیت ۔

1996 میں ملک کے 1500 بااثر علماء اور مشائخ کی جانب سےجب انہیں امارت اسلامیہ کے امیر المومنین کالقب دیا گیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اتنا روئے کہ ان کےکندھے پر موجود چادرآنسووں سے تر ہوگئی۔ اور آخر میں انہوں وہاں موجود علماء سے اپنے تاریخی خطاب میں کہا :” اے علماء !آپ اپنے شرعی علم کی بناء پر انبیاء کے وارث کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے آج جو بھاری ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے درحقیقت اس کی استقامت یا انحراف کی ساری ذمہ داری سب آپ پر ہے ۔

اے ہمارے اساتذہ کرام اور قابل قدر علماء ! خدانخواستہ اگر ہم سے مسلمانوں کی اس بڑے امانت میں کوئی تقصیر یا انحراف ہوجائے اس کی درستگی اور اصلاح آپ کی شرعی ذمہ داری ہے ۔ آپ لوگ اپنے شرعی علم کی روشنی میں طالبان مجاہدین کی استقامت اور انہیں راہ حق پر چلنے کی راہنمائی کریں گے ۔ اگر طالبان سے اسلامی احکام کے نفاذ کے حوالے سے کوئی کوتاہی یا انحراف کا ارتکاب ہوجائےاور تم اسے دیکھ لو اور اصلاح کے لیے کچھ بھی نہ کہو تو اس کی ذمہ داری اللہ تعالی کے ہاں ساری آپ پرہوگی اور میں سوال وجواب کے دن تمھارا گریبان پکڑوں گا۔


طالبان کو دھمکیاں دینے والوں اور جنگ کرنے والوں کا انجام 🙄🙄 🤣🤣


صوبہ ننگرہار کے ضلع سرخ روڈ میں مزید 2 سیکیورٹی اہلکار طالبان کو تسلیم

اشرف غنی طالبان کو جنگ کی دھمکیاں دیتا ہے اور اسکی فوج مسلسل تسلیم ہورہی ہے طالبان کو 😂

Показано 20 последних публикаций.

306

подписчиков
Статистика канала