TGStat
TGStat
Введите текст для поиска
Расширенный поиск каналов
  • Язык сайта
    flag Russian flag English flag Uzbek
  • Вход на сайт
  • Каталог
    Каталог каналов и чатов Поиск каналов
    Добавить канал/чат
  • Рейтинги
    Рейтинг каналов Рейтинг чатов Рейтинг публикаций
    Рейтинги брендов и персон
  • Аналитика
  • Поиск по публикациям
  • Мониторинг Telegram
تیز خبر

16 May 2020, 19:33

Открыть в Telegram Поделиться Пожаловаться

امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زندگی سے متعلق حصہ 5

ملا محمدعمر مجاہد کی قائدانہ شخصیت:

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ ایک قائدانہ شخصیت کے مالک اور اپنی ایک خاص طبعیت اور سلیقہ رکھتے تھے ۔ انہیں دنیا بھر کے دیگر حکام اور بلند مرتبت شخصیات کے برعکس خود نمائی اور دکھلاوے سے شدید نفرت تھی ۔ بے ضرورت گفتگو نہیں فرماتےتھے ۔ مگر ضرورت کے وقت ان کی باتیں انتہائی پختہ ، سوچی سمجھی اور معقول ہوتی تھیں ۔ مثال کے طورپر افغانستان پر امریکی جارحیت کےآغاز کے موقع پر امارت اسلامیہ کے خاتمےاور پروپیگنڈے کے ذریعے مجاہدین کا حوصلہ کمزور کرنےکے لیے امریکا کی کوششیں انتہائی تیزی سے جاری تھیں ۔ پوری مغربی دنیا کی ذرائع ابلاغ اور ریڈیو اور ٹی وی چینلزاسی کام کے لیے وقف کردیے گئے تھے ۔

ملا محمدعمر مجاہدامت مسلمہ کے درد سے درد مند رہنماتھے۔ مسلمان بھائیوں کے ساتھ اخوت ، ہمدردی ، ایثاراور تعاون صرف ان کا نعرہ نہیں تھا بلکہ اس دعوی کو انہوں نے ہمیشہ عملا ثابت کیا ۔

عقیدہ اور فکری نمو:

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ عقیدے کے اعتبار سے مسلمانوں کے اہل سنۃ والجماعۃ کے منہج کے راہ رو حنفی مسلک کےمقلد تھے۔

خرافات اور بدعات کے سخت مخالف تھے ۔ مسلمانوں کے درمیان مذہبی ، فکری اور تنظیمی اختلافات انہیں بالکل پسند نہیں تھے ۔ اپنےمجاہدین اور اور تمام مسلمانوں کو آپس میں اسلامی اتحاد اور فکری ہم آہنگی کی بنیادیں مضبوط کرنے کی نصیحت اور تاکید کرتے تھے ۔ مسلمانوں کے درمیان عقیدے کا اتحاد اور یگانگت وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتےتھے ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین کے نقش قدم پر چلنےکو امت مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ قرار دیتے تھے ۔

ذاتی زندگی :

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زندگی کا اکثر حصہ دینی علوم کے حصول ، مطالعہ ، جہاد ، دعوت اور اسلام کی خدمت میں گذارا ۔ افغانستان کے معاصر حکام میں سے شاید سب سے زیادہ غریب اور بیت المال کا مال استعمال نہ کرنے والے شخص تھے ۔ کیوں کہ نہ گذشتہ جہاد کے دور میں انہوں نے اپنے جہادی اثرورسوخ کوبرروئے کار لاکراپنی ذاتی زندگی کے لیے کچھ حاصل کیا اور نہ افغانستان پرامارت اسلامیہ کے 7 سالہ دور حکومت میں ایسا کوئی اقدام کیا ۔

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے پاس ملکیتی کوئی مکان نہیں تھا اور نہ ہی بیرون ممالک کی بینکوں میں ان کی کوئی نقد رقم رکھی ہوئی تھی ۔

1999 میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان پرظالمانہ یک طرفہ اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اوربیرون ممالک کے بینکوں میں طالبان قائدین کے مالی حساب کتاب کی جانچ پڑتال کا حکم دیاگیا ۔ ملا محمد عمرمجاہد امارت اسلامیہ کے امیر کے طور پر امارت اسلامیہ کے سب سے بڑے رہنما تھے ، ان کے ذاتی یا فرضی کسی نام سے افغانستان کے باہر یا اندر کسی بینک میں کوئی اکاونٹ موجود نہیں تھا۔

امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں ان کا رہائشی مکان دشمنوں کی جانب سے خطرناک حملوں کا نشانہ بنا ۔ جس سے ان کے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر لوگ بھی شہید ہوئے ۔اس لیے امارت اسلامیہ کے کچھ رہنماوں نے ان کی حفاظت کی خاطر قندہار شہر کے شمال مغرب میں "باباصاحب کوتل” کے زیریں علاقے میں جہاں قریب قریب میں کوئی عام آبادی نہیں تھی ان کے لیے ایک رہائشی مکان اور امار ت اسلامیہ کے مرکزی امیر کا دفتر تعمیر کروایا ۔ جوتصرف کے اعتبار سے بیت المال کے عمومی املاک میں سے سمجھاجاتا تھا نہ کہ ان کی ذاتی ملکیت ۔

1996 میں ملک کے 1500 بااثر علماء اور مشائخ کی جانب سےجب انہیں امارت اسلامیہ کے امیر المومنین کالقب دیا گیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اتنا روئے کہ ان کےکندھے پر موجود چادرآنسووں سے تر ہوگئی۔ اور آخر میں انہوں وہاں موجود علماء سے اپنے تاریخی خطاب میں کہا :” اے علماء !آپ اپنے شرعی علم کی بناء پر انبیاء کے وارث کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے آج جو بھاری ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے درحقیقت اس کی استقامت یا انحراف کی ساری ذمہ داری سب آپ پر ہے ۔

اے ہمارے اساتذہ کرام اور قابل قدر علماء ! خدانخواستہ اگر ہم سے مسلمانوں کی اس بڑے امانت میں کوئی تقصیر یا انحراف ہوجائے اس کی درستگی اور اصلاح آپ کی شرعی ذمہ داری ہے ۔ آپ لوگ اپنے شرعی علم کی روشنی میں طالبان مجاہدین کی استقامت اور انہیں راہ حق پر چلنے کی راہنمائی کریں گے ۔ اگر طالبان سے اسلامی احکام کے نفاذ کے حوالے سے کوئی کوتاہی یا انحراف کا ارتکاب ہوجائےاور تم اسے دیکھ لو اور اصلاح کے لیے کچھ بھی نہ کہو تو اس کی ذمہ داری اللہ تعالی کے ہاں ساری آپ پرہوگی اور میں سوال وجواب کے دن تمھارا گریبان پکڑوں گا۔

198 0 0
Каталог
Каталог каналов и чатов Подборки каналов Поиск каналов Добавить канал/чат
Рейтинги
Рейтинг каналов Telegram Рейтинг чатов Telegram Рейтинг публикаций Рейтинги брендов и персон
API
API статистики API поиска публикаций API Callback
Наши каналы
@TGStat @TGStat_Chat @telepulse @TGStatAPI
Почитать
Академия TGStat Исследование Telegram 2019 Исследование Telegram 2021 Исследование Telegram 2023
Контакты
Справочный центр Поддержка Почта Вакансии
Всякая всячина
Пользовательское соглашение Политика конфиденциальности Публичная оферта
Наши боты
@TGStat_Bot @SearcheeBot @TGAlertsBot @tg_analytics_bot @TGStatChatBot